• Home
  • پاکستان
  • کیا متحدہ عرب امارات پر حملوں نے اسلام آباد کی مشکلات بڑھا دیں؟
Image

کیا متحدہ عرب امارات پر حملوں نے اسلام آباد کی مشکلات بڑھا دیں؟

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور دیگر ملکوں کی درخواست پر ایران کے خلاف آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا فوجی آپریشن عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاہم جنگ بندی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار رہے ہیں۔

جہاں امریکی فوج کی طرف سے ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تو وہیں متحدہ عرب امارات کے مطابق اس کی فجیرہ آئل انڈسٹری سمیت مختلف مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے پیر اور منگل کے ان حملوں پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایک بیان میں اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے حملوں کا جواب دینے کا ’مکمل قانونی حق حاصل ہے۔‘ جبکہ ایران نے ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسداران انقلاب نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ کہ ملک کی مسلح افواج نے ’حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کوئی میزائل یا ڈرون آپریشن نہیں کیا۔‘

اس کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو ہم اس کا واضح اعلان کرتے۔‘

ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار نبھانے والے ملک پاکستان کو جنگ بندی برقرار رکھنے اور دونوں ملکوں کو کسی معاہدے کی طرف لے جانے کی کوششوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان نے گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔

منگل کو وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے بیان میں امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان یو اے ای میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں۔

ایک جواب دیں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top