• Home
  • Blog
  • وزیر داخلہ منتخب نمائندے ہوتے تو جانتے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق نئی ایجاد نہیں، اسپیکر کے پی اسمبلی
Image

وزیر داخلہ منتخب نمائندے ہوتے تو جانتے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق نئی ایجاد نہیں، اسپیکر کے پی اسمبلی

پشاور: اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق کوئی نئی ایجاد نہیں ہے۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر داخلہ اگرمنتخب عوامی نمائندہ اور پارلیمانی نظام کاحصہ رہے ہوتے تو یہ جانتے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق نئی ایجاد نہیں بلکہ طویل عرصے سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوجداری الزام میں رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت بھی خیبرپختونخوا کی نئی ایجاد نہیں، یہ تحفظات مقننہ کی آزادی برقرار رکھنے اور پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دباؤ میں لانے سے روکنے کے لیے ہیں۔

اسپیکر نے واضح کیا کہ پارلیمانی استحقاق کسی رکن اسمبلی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے، ہر رکن تفتیش، مقدمے اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرے گا، اسپیکر اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ گرفتاری سیاسی انتقام یا اسمبلی کارروائی میں رکاوٹ کیلئے نہ ہو۔

بابر سلیم سواتی نے کہا کہ آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ کا قانون منظور کریں تو وہ قانون ہے؟  آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا، رشوت اور فلور کراسنگ کے ذریعے قانون منظور کرائیں تو وہ قانون ہے؟ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت، اپوزیشن جماعتیں اتفاق رائےسے قانون منظور کریں تو کیا وہ قانون نہیں؟

اسپیکر کے پی اسمبلی نے کہا کہ وزیر داخلہ ذرا سوچیں کہ کس چیز کا کس سے موازنہ کررہے ہیں، کیا یہ جمہوریت ہےکہ نقاب پوش بغیروارنٹ منتخب ارکان، سیاسی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں اٹھائیں؟  24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلنا اور ہلاکتیں کیا جمہوریت ہیں؟ وزیر داخلہ انسانی حقوق کے اصول پامال کرکے اپنی حکومت کو طول دینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن مراعات اوراستحقاقات پر آپ تنقید کرتے ہیں، آپ اور آپ کے ساتھی بھی وہی حاصل کررہے ہیں،  آپ اور آپ کے ساتھی اکثر ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے آپ کے الفاظ ہی قانون ہوں مگر ایسا نہیں ہے۔

واضح رہے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں اراکین اسمبلی کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر کی اجازت لینےکے مراسلے پر تنقیدکرتے ہوئےکہا تھا کہ اب خیبرپختونخوا میں کوئی ایم پی اے جرم کرے توپولیس گرفتاری سے پہلے اسپیکر سے اجازت لینےکی پابند ہوگی۔

محسن نقوی نےکہا تھا کہ کیاکوئی رکن اسمبلی قتل کر دے تو اُس کی گرفتاری سے پہلے بھی پولیس اسپیکرکی اجازت کا انتظار کرےگی؟ قانون کے سامنے برابری کی یہ عجیب وغریب شکل ہے،کیایہ ریاست مدینہ ہے؟

متعلقہ خبریں۔

پی آئی اے کی فضائی میزبانوں پر نئی پابندی عائد

اسلام آباد (27 ستمبر 2026): پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن نے فضائی میزبانوں پر فلائنگ ڈیوٹی کے دوران نئی…

ByByMomina Fatima Sep 27, 2026

پنڈی اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس متاثر

اسلام آباد (27 ستمبر 2026): جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس متاثر…

ByByMomina Fatima Sep 27, 2026

’پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ ہوجائے‘

اسلام آباد (27 ستمبر 2026): رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی…

ByByMomina Fatima Sep 27, 2026

واٹر کارپوریشن کی کھربوں روپے مالیت کی اراضی 3 سالہ لیز پر دینے کی آڑ میں ٹھکانے لگانے کا منصوبہ

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی کھربوں روپے مالیت کی اراضی اور املاک کو 3 سالہ لیز پر…

ByByMomina Fatima Sep 27, 2026

ایک جواب دیں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top