کولکتہ کے ہاوڑہ جنکشن سٹیشن کے اوپر بجلی چمک رہی تھی جبکہ بارش پلیٹ فارم نمبر چھ پر برس رہی تھی تاہم، انتظار کرنے والے مسافروں نے جیسے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ وہ ایک دوسرے کو دھکیلتے اور اپنے فون سے سیلفیاں لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
انڈین ریلوے کی توجہ کا مرکز ’وندے بھارت ایکسپریس‘ سلیپر ٹرین تھی جو چمکدار نارنجی، سیاہ اور سرمئی رنگوں سے سجی تھی۔
جنوری 2026 میں شروع کی گئی، یہ وندے بھارت نیم تیز رفتار بیڑے کی پہلی سلیپر ٹرین ہے، جو قومی فخر کا باعث بن چکی ہے۔
سلیپر کے اولین سفرکی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو گئیں اور جب میں تین ماہ بعد کولکتہ گیا، تو اس کی دلچسپی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور اس کی 823 برتھس اب بھی ہفتوں پہلے ہی بک ہو رہی تھیں۔
انڈیا کی علامت
وندے بھارت کا مطلب سنسکرت میں ’بھارت کو سلام‘ ہے۔
انڈیا میں ڈیزائن اور تیار کی گئی، اس ٹرین کو ملک کی پرانی طویل فاصلے کی ٹرینوں کے مقابلے میں زیادہ صاف اور جدید اپ گریڈ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں ہوا دار اگلے حصے، خودکار سلائیڈنگ دروازے اور آرام دہ اندرونی حصے شامل ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا نے سلیپر کوچز کو ’حیرت انگیز‘ اور ’شاندار‘ قرار دیا، ایسے الفاظ جو عموماً انڈین طویل فاصلے کی ٹرینوں کے لیے استعمال نہیں ہوتے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی وندے بھارت ٹرینوں کا خود افتتاح کیا، جس سے عوامی دلچسپی میں اضافہ ہوا اور انھیں انڈیا کی امنگوں کی علامت بنانے میں مدد ملی۔






