کئی دہائیوں تک کینیڈا کو دفاعی اخراجات کے حوالے سے عالمی سطح پر پیچھے سمجھا جاتا رہا اور صرف دو سال پہلے بھرتی کی صورتحال اس قدر خراب تھی کہ ایک سابق وزیرِ دفاع نے خبردار کیا تھا کہ مسلح افواج تباہی کے دہانے پر ہیں۔
لیکن اب کینیڈا کی فوج اس رفتار سے بڑھ رہی ہے جو کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی اور یہ 30 سال میں بھرتی کی سب سے زیادہ سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ یہ ممکنہ طور پر عملے کی کمی کے مسئلے کو بھی ختم کر سکتی ہے جو طویل عرصے سے ملک کی فوج کو متاثر کر رہا تھا۔
گذشتہ دو سال میں اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بڑے تنازعات اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور کینیڈا برسوں تک نیٹو کی ذمہ داریوں پر پورا نہ اترنے کے بعد اب فوج کے لیے اربوں ڈالر کی نئی فنڈنگ مختص کر رہا ہے۔
یہ تبدیلی ایک غیر معمولی قوم پرستی کے اضافے کے ساتھ بھی آئی، جو اُس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو ’51ویں ریاست‘ کہا، یہ ایک ایسا بیان تھا جسے بہت سے لوگوں نے قریبی ہمسایہ ملک کی طرف سے اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھا۔
کینیڈین گلوبل افیئرز انسٹیٹیوٹ کی ماہر شارلٹ ڈووال لانتوان، جو کینیڈا کی فوجی ثقافت پر تحقیق کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ حالیہ بھرتیوں میں اضافے کے پیچھے ’ٹرمپ اثر‘ ہو سکتا ہے لیکن فوجی درخواستوں میں اضافہ 2022 میں ہی شروع ہو گیا تھا، جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’جب لوگ دیکھتے ہیں کہ دنیا اتنی محفوظ نہیں رہی اور ان کا ملک خطرے میں ہو سکتا ہے۔۔۔ تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ فوج میں شامل ہونے لگتے ہیں۔‘
لیکن عالمی تنازعات ہی اس اضافے کی واحد وجہ نہیں۔ کینیڈا میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح جو مارچ میں تقریباً 14 فیصد کے قریب تھی اس کے ساتھ ساتھ ملازمت کے تحفظ اور بہتر تنخواہوں کا وعدہ، جو وزیر اعظم مارک کارنی نے کیا اور اس سلسلے میں فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں بڑے اضافے کا اعلان بھی کیا، یہ بھی اس رجحان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

گذشتہ سال عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، کارنی نے فوج کو اپنی حکومت کی توجہ کا مرکز بنا لیا اور بقول ان کے ایک ’پرعزم‘ منصوبہ پیش کیا، جس کے تحت کینیڈین مسلح افواج کو تیزی سے جدید بنایا جائے اور اس میں توسیع کی جائے۔






