پشاور میں امریکی قونصل خانہ لگ بھگ 67 سال پہلے قائم ہوا تھا اور صوبہ خیبر پختونخوا (اس وقت صوبہ سرحد) میں امریکی سفارتی موجودگی کی بنیاد دراصل صوبائی دارالحکومت کے قریب واقع بڈھ بیر فضائی اڈہ تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ماہ نامے ’سٹیٹ‘ میں چھپے ایک مضمون کے مطابق بڈھ بیر اڈہ سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے دوران یوٹو جاسوس طیاروں کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ’ان میں فرانسس گیری پاورز کی 1960 کی وہ پرواز بھی شامل تھی جو سوویت یونین کے اوپر مار گرائی گئی۔‘
پشاور کے قریب امریکی فضائی مواصلاتی سٹیشن (بڈھ بیر) کا قیام ایوب خان کے مارشل لا دور میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1959 میں ہونے والے معاہدے کے بعد ہوا تھا۔
مگر اب پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش کے ساتھ ایک دور کا اختتام ہو رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خیبر پختونخوا کے ساتھ سفارتی معاملات کی ذمہ داری اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی جائے گی اور یہ فیصلہ ’ہمارے سفارتی عملے کی سلامتی اور وسائل کے مؤثر انتظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پشاور میں قونصل خانہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی پالیسی ترجیحات اپنی جگہ برقرار ہیں۔
بیان کے مطابق ’ہم خیبر پختونخوا کے عوام اور حکام کے ساتھ با معنی روابط جاری رکھیں گے تاکہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے، علاقائی سلامتی کو تقویت دی جا سکے اور امریکی عوام کے مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود اپنے سفارتی دفاتر کے ذریعے امریکہ، پاکستان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُر عزم رہے گا۔

پاکستان امریکہ تعلقات میں پشاور کی اہمیت: جب پہلا دفتر بند کرنا پڑا
ڈینیئل ایس مارکے اپنی کتاب ’نو ایگزٹ فرام پاکستان: امریکاز ٹارچرڈ ریلیشن شپ وِد اسلام آباد‘ میں لکھتے ہیں کہ ’پشاور پاکستان کے قبائلی علاقوں، درہ خیبر اور افغانستان کے دروازے پر واقع شہر ہے جو صدیوں سے فوجوں، تاجروں، مبلغین اور حملہ آوروں کے لیے ایک گزرگاہ اور سرحدی چوکی رہا ہے۔‘






