میڈیکل سائنسز (پمز) کے سانحے سے متعلق ابتدائی انکوائری رپورٹ پیش کر دی گئی ہے، جس میں اسپتال کے اعلیٰ حکام کو غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم ہونے والی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر سمیت دس افسران اور متعلقہ عملے کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔ان کارروائی کی زد میں آنے والے افسران میں پمز کے ٹاپ پانچ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔
کمیٹی ذرائع کے مطابق ان افسران اور عملے نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں شدید غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ اس رپورٹ میں موجودہ قائم مقام سیکرٹری کی تجاویز و سفارشات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پمز اسپتال کو انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور کسی موثر انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ فوری طور پر نئے اور پروفیشنل افراد کو تعینات کیا جائے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پمز کا ایک باقاعدہ گورننگ بورڈ تشکیل دیا جائے، اسپتال کی باقاعدہ اور مسلسل مانیٹرنگ کا نظام یقینی بنایا جائے، اور اسے احسن طریقے سے چلانے کے لیے ایک مستحکم انتظامی ڈھانچہ موجود ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ وفاق کے زیرانتظام پمزاسپتال کے نرسری وارڈ میں خوفناک آتشزدگی سے 15 نومولود جاں بحق پوگئے۔ اپنے بچوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر والدین غم سے نڈھال ہیںیک خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ آگ لگنے سے پہلے ہی نرسری وارڈ پر تالے لگے ہوئے تھے، ڈاکٹرز اور عملہ بھی موجود نہیں تھا، صرف بچے جلے لیکن عملے کے کسی ملازم کو کچھ نہیں ہوا، اسپتال کی بھی ہر چیز ٹھیک ہے۔














