پاکستان ہاکی ٹیم کی ورلڈ کپ میں 20 برس کے دوران سب سے بہتر کارکردگی پر ہاکی فیڈریشن کے حکام اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کھیل میں راج کرنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کی 11ویں پوزیشن پر جشن منانا اس کے ماضی کے شاندار مقام سے مطابقت نہیں رکھتا۔
خیال رہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم نے جمعے کی شب جنوبی افریقہ کو شکست دے کر ہاکی ورلڈ کپ میں 11 ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ یہ 20 برس کے دوران پاکستان ہاکی ٹیم کی سب سے بہترین کارکردگی ہے، اس سے قبل سنہ 2006 میں جرمنی میں کھیلے گئے ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان نے چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے ایڈہاک صدر محی الدین وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے آٹھ ماہ کے دوران اس کھیل پر 50 سے 60 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے جس کے ثمرات اب سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری جانب آخری مرتبہ 1994 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان شہباز احمد کہتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں 16 ٹیمیں تھیں، ایسے میں 11 ویں نمبر پر آنا کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم اپنے پول میچز میں انڈیا اور انگلینڈ سے شکست جبکہ ویلز کے ساتھ میچ ڈرا کرنے کے باعث ٹرافی کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی، یوں اسے کلاسیفیکیشن راؤنڈ کھیلنا پڑا تھا۔
16 ٹیموں کے درمیان ہونے والے ہاکی ورلڈ کپ میں پہلی آٹھ ٹیموں نے اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا تھا جبکہ نویں سے 16 ویں پوزیشن کے میچز کے لیے کلاسیفیکیشن راؤنڈ کھیلا گیا تھا۔ ہاکی ورلڈ کپ کا فائنل اتوار کو سپین اور جرمنی کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔
جمعرات کو نیدر لینڈز کے شہر امستلوین میں کھیلے گئے میچ میں مقررہ وقت کے دوران میچ چار، چار گول سے برابر رہا جس کے بعد ’پینلٹی شوٹ آؤٹ‘ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو چار، تین سے شکست دے دی۔
اس سے قبل کلاسیفیکیشن راؤنڈ میں بھی پاکستان کو نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جبکہ گرین شرٹس نے جاپان کے خلاف میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔














