ذرائع کے مطابق لوڈشیڈنگ کے بعد بجلی بحال ہوتے ہی بعض علاقوں میں ٹرانسفارمرز کے جمپر اترنے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کی شکایات سامنے آتی ہیں، جس کے باعث صارفین کو مزید کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہنا پڑتا ہے۔
گنجان آباد علاقوں میں تکنیکی خرابیوں اور ٹرانسفارمرز خراب ہونے کی شکایات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، ٹرانسفارمر خراب ہونے کی صورت میں شہریوں کو طویل دورانیے تک بجلی کی بحالی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق دن کے اوقات میں سولر سسٹمز کے استعمال کے باعث لیسکو کی بجلی کی طلب تقریباً 3500 سے 3700 میگاواٹ تک رہتی ہے، تاہم رات کے وقت سولر سسٹمز بند ہونے کے بعد طلب بڑھ کر تقریباً 5200 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طلب اور رسد میں فرق کے باعث رات کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب کے مختلف شہروں شیخوپورہ، فیصل آباد، سیالکوٹ میں بھی وقفے وقفے سے طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس کے باعث شہری پریشانی میں مبتلا ہوچکے ہیں اور کاروبارِ زندگی شدید متاثر ہورہا ہے۔
دوسری جانب پشاور میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے تہکال کے مقام پر یونیورسٹی روڈ بند کردیا۔
مظاہرین نے بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ رات کو بجلی ہوتی ہے، نہ دن کو، بجلی کی لوڈشیڈنگ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں














