• Home
  • Blog
  • ڈی جی آئی ایس پی آر: کسی فریق پر حملے کی صورت میں مکہ معاہدے کے رکن ممالک مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے
Image

ڈی جی آئی ایس پی آر: کسی فریق پر حملے کی صورت میں مکہ معاہدے کے رکن ممالک مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے مکہ معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملہ ہوتا ہے تو معاہدے میں شامل ممالک لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی پر عمل کریں گے۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے بہت زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے جبکہ ہماری دفاعی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں،  اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی ملک کے خلاف ہمارے جارحانہ عزائم نہیں ہیں، ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے، ہم نہ صرف دفاع کر سکتے ہیں بلکہ سزا بھی دے سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیاسی مقصد ملک کی سیاسی قیادت طے کرتی ہے،  فوج اور ریاست کے الگ الگ اہداف نہیں ہیں، پاکستان کے مقاصد اور خواہشات سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
افغانستان کی صورتحال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں درجنوں دہشت گرد تنظیموں کاذکرہے، ہمارا مؤقف ہے افغانستان کو دنیا کا دہشت گردی کا مرکز نہیں بننا چاہیے، طالبان حکومت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے دہشتگردوں کو تربیت دے رہی ہے،  ہمارا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

 فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر 

مکہ معاہدے کے کسی ایک فریق پر حملے پر پاکستان کے ردعمل سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو کبھی بھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، کسی حملے کا ردعمل کیا ہوگا، تینوں ممالک لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق اس پر عمل درآمد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، سب سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن برقرار رکھنا ہے، دفاع سے متعلق دوسرے معاہدے بھی ہیں، جن میں ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانیاں ہیں، آپ دراصل یہ پوچھ رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت کیسے کارروائی کی جائے گی، فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں، کسی بھی کارروائی کا فیصلہ ان تینوں ممالک نے کرنا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا جیسا کہ لفظ سے بھی واضح ہے یہ دفاعی تعاون ہے، اس معاہدے میں کوئی جارحانہ پہلو نہیں ہے، باہمی دفاعی معاہدہ ایک دوسرے کے لیے معاون نوعیت کا ہے، ان تمام ممالک کے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے آزادانہ اور الگ تعلقات ہیں۔

متعلقہ خبریں۔

ایران تنازع کے دوران یواے ای پر سائبر حملوں میں تیزی، ایک دن میں 6 لاکھ سے زائد حملے

دبئی: ایران تنازع کے دوران متحدہ عرب امارات پر سائبر حملوں میں تیزی آگئی۔ اماراتی حکام کے مطابق…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

پشاور: عمرہ زائرین کیلئے سول سرجن آفس میں ویکسی نیشن سینٹر فعال

پشاور میں عمرہ زائرین کے لیے سول سرجن آفس میں ویکسی نیشن سینٹر فعال کردیا گیا۔ فوکل پرسن غلام…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا کے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

پشاور: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

امریکی محکمہ خارجہ نے آن لائن ویزا فراڈ کی شکایات کیلئے نیا پورٹل لانچ کردیا

امریکی محکمہ خارجہ نے آن لائن ویزا فراڈ کی اطلاع دینے کیلئے پورٹل لانچ کردیا۔ ترجمان امریکی قونصلیٹ…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

ایک جواب دیں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top