کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا، دھماکے کے باعث مسجدکے باہر گڑھا پڑ گیا، دھماکے سے مسجدکا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیواربھی گرگئی۔
ایم ایس کوہاٹ اسپتال ڈاکٹر طاہر کے مطابق دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں اور 6 عام شہریوں سمیت 21 افراد شہید جبکہ 103 زخمی ہوئے, زخمیوں میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل ہیں۔
ایم ایس کے مطابق شہداء میں لیاقت میموریل اسپتال کے چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر طاہر نے مزید بتایا کہ 103 زخمیوں میں سے 90 ڈی ایچ کیو اور 13 لیاقت میموریل اسپتال لائے گئے، جبکہ 4 زخمیوں کو پشاوراسپتال ریفر کیا گیا، 34 زخمی تاحال اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
اس حوالے سے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے جیو نیوز کو بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ ٹکرائی، گاڑی ٹکرانےکے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی ہوئی، فائرنگ کے دوران اسپیشل برانچ کی عمارت پر ایک اورخودکش دھماکاہوا۔
سینٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق 7 مسلح دہشتگرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے، پولیس اور سی ٹی ڈی نےدہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور اب تک 6 دہشتگرد ہلاک ہو چکےہیں۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں خود کش بمبار اور اسنائپر شامل ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقےکو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ
پولیس کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیاگیا ہے، زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال طاہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے اور پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکےکا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ واقعےکےتمام پہلوؤں کا جائزہ لےکر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کےحوصلے پست نہیں کیےجاسکتے۔
سہیل آفریدی نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہید پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے درجات بلندی کے لیے دعاگو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پاکستان کے لیے 80 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں سے پاکستان میں امن آیا تھا، خیبر پختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں، اسی لیے ملک میں امن ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام قربانیاں دے رہے ہیں، اس قربانی کی قدر کرنی چاہیے، خیبر پختونخوا کے عوام کے خلاف کہے گئے ایک ایک لفظ سے ہمارے زخم تازہ ہوتے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا کہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے افسوسناک ہے، پاکستان ہمارا ملک ہے، کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔














