کراچی: ساحل تھانے کی حدود میں ایک نوجوان علی جعفری پر بدترین تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے، آج صبح جب خبر نشر کی تو پولیس کی دوڑیں لگ گئیں، اور پھر ملزم ملک ابراہیم کو گرفتار بھی کر لیا گیا، اب تک دو تشدد میں ملوث دو ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جن میں دوسرے کا نام وقار ہے۔
ڈیفنس میں تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان علی جعفری نے تھانے کے اندر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان نے انھیں ’’اغوا کیا، مارا پیٹا، بال کاٹے اور وہی بال کھانے پر مجبور کیا، فیملی کی تصویریں دکھا کر دھمکیاں دی گئیں کہ اس معاملے کو بڑھایا تو یہی کام فیملی کے ساتھ بھی ہوگا۔‘‘
علی جعفری نے کہا کہ وہ مانیٹری نہیں چاہتے بلکہ انھیں اس معاملے میں انصاف چاہیے، نظام اسی چیز کے لیے بنایا گیا ہے، اور انھیں صرف انصاف چاہیے۔
واضح رہے کہ تشدد کرنے والے ملزم کی فیملی نے بتایا تھا کہ 60 سے 70 ہزار روپے کا کوئی جھگڑا تھا، تاہم علی جعفری نے بتایا کہ ان کا پیسے کا کوئی لین دین نہیں تھا، جب انھیں پیسے درکار ہوتے ہیں تو وہ اپنے بھائی اور بہن سے مانگ لیتے ہیں، تشدد کرنے والوں کو وہ جانتا تک نہ تھا۔
علی جعفری نے بتایا ’’جب انھوں نے مجھے لورینزو کے باہر پکڑا اور اٹھایا تو پہلی بار ان سے گفتگو ہوئی، میں ان سے پوچھ رہا تھا کہ تشدد کیوں کیا جا رہا ہے، مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ مجھ پر تشدد کیوں کیا جا رہا ہے، میں پوچھتا رہا کہ میری کیا غلطی ہے مجھے کیوں مار رہے ہو۔‘‘
متاثرہ نوجوان کے مطابق تشدد کرنے والے جواب میں ان سے کہتے رہے کہ معافی مانگو، اور یہ کہ وہ ملک ابراہیم کو پہلے سے نہیں جانتا تھا، انھوں بتایا ’’مجھے گاڑی میں بٹھایا گیا تو وہ ایک دوسرے کو جب ناموں سے پکارنے لگے تو اس کے بعد ان کے نام سنے۔‘‘
جعفری نے بتایا کہ مقدمے کا اندراج ہو گیا ہے، امید کرتا ہوں کہ مجھے انصاف ملے گا، جس نے غلط کیا اسے سزا ملنی چاہیے، میری فیملی کو دھمکیاں دی گئیں، تشدد کیا گیا، مجھے اور کچھ نہیں صرف انصاف چاہیے۔
اس سے قبل متاثرہ نوجوان نے بتایا تھا ’’میں دوستوں کے ساتھ ڈیفنس فیز 6 میں کھانا کھانے گیا تھا، پھر دوست علی فیصل کے ساتھ گیمنگ کرنے گیا، حملہ آور مجھے کار میں ڈال کر لے گئے، وہاں پر تشدد کیا گیا، ملزمان مجھ سے معافی مانگنے کا بولتے رہے اور پیسے مانگے، انھوں نے میرے والٹ اکاؤنٹ کو بھی استعمال کیا اور خریداری کی۔‘‘














