کراچی : سانحہ گل پلازہ کے مقدمے کو سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے طرز کا مقدمہ قرار دے دیا گیا اور کہا گیا یہ محض حادثہ نہیں قتل عمد کا مقدمہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گل پلازہ کیس کی سماعت کے دوران دکانوں کے مالکان عدالت پہنچ گئے اور مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دائر کردی۔
دکانداروں کے وکیل نے واقعے کو محض حادثہ نہیں بلکہ “قتلِ عمد” قرار دیتے ہوئے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے طرز کا مقدمہ قرار دے دیا۔
سماعت کے دوران دکان کے مالکان کی جانب سے وکالت نامہ جمع کرایا گیا، عدالت نے دکان مالکان سے استفسار کیا کہ آپ لوگ کیس میں کیوں آئے ہیں، نہ آپ مدعی ہیں اور نہ ہی گواہ، عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مالکان نے دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرائے ہیں؟
اس پر عبدالقیوم قادری ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ “ہم دکانوں کے مالک ہیں اور اس کیس میں فریق بننا چاہتے ہیں، ہم پہلے اسے حادثہ سمجھتے رہے لیکن یہ قتلِ عمد کا معاملہ ہے۔ گل پلازہ کی کھڑکیاں، دروازے اور راستے قصداً بند کیے گئے تھے، اس لیے ہم متاثرین کے وکیل کی حیثیت سے سرکار کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے جب پوچھا کہ “کیا آپ لوگوں کو حکومت کی جانب سے امداد ملی ہے؟” تو مالکان نے بتایا کہ امدادی رقم صرف کرایہ داروں کو ملی ہے، دکان کے مالکان کو کچھ نہیں ملا، جبکہ امداد کی رقم میں بڑے پیمانے پر خورد برد بھی ہوئی ہے۔
دوسری جانب تنویر پاستا نے کہا کہ حکومت شاپ اونرز کو نئی دکانیں بنا کر دے گی۔
پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دکان مالکان نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی بیان ریکارڈ کرایا، جبکہ تفتیشی افسر کے مطابق گل پلازہ سے پانچ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر دکان مالکان کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔














