پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج سے باقاعدہ مذاکرات شروع ہوں گے۔
پاکستان کی طرف سے ساورن ویلتھ فنڈ اور گردشی قرض میں کمی پر بریفنگ دی جائے گی، آئی ایم ایف کو چینی کا شعبہ ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، پرائمری سرپلس صورتحال، غیرملکی زرمبادلہ اور شرح تبادلہ سے آگاہ کیا جائےگا۔
آئی ایم ایف اورایف بی آرکے مذاکرات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اصلاحات پربات ہوگی۔
نیب اور ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی فنڈنگ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کرے گا۔
وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرض اور اصلاحات پربریفنگ دی جائے گی، صوبوں سے ٹیکس اورنان ٹیکس ریونیووصولی بہتر بنانے کے اقدامات پر بات ہو گی۔














