چین کے شہر لہاسا میں 71 سالہ شخص تقریباً 30 سال سے اپنی کمر پر موجود چربی کی ایک بڑی گانٹھ کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا، تاہم گزشتہ دو سال کے دوران اس کے سائز میں تیزی سے اضافہ ہونے کے باعث اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق گانٹھ بڑھنے کی وجہ سے مریض کی کمر اور کندھے کے پٹھوں پر دباؤ پڑ رہا تھا۔ یہ بڑی اور نرم گانٹھ اس کے بائیں کندھے سے کمر کے نچلے حصے تک پھیلی ہوئی تھی، جبکہ اس کی سطح پر خون کی باریک رگیں بھی نمایاں تھیں۔
گانٹھ کے غیر معمولی حجم کے باعث ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے اسے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ طبی ماہرین کے مطابق گانٹھ کا وزن تقریباً 10 کلوگرام تھا، جو تقریباً تین نومولود بچوں کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔
گانٹھ کا حجم 56 × 54 × 28 سینٹی میٹر تھا، جو عام طور پر ہوائی جہاز کے کیبن میں لے جانے والے بیگ سے بھی کچھ بڑا تھا۔
سرجنوں نے آپریشن کے دوران پہلے گانٹھ کے اوپر چیرا لگایا، پھر اسے انتہائی احتیاط سے تہہ در تہہ الگ کیا اور اسے خون فراہم کرنے والی رگوں کو باندھ دیا۔ حیران کن طور پر ڈاکٹر پوری گانٹھ کو ایک ہی ٹکڑے میں نکالنے میں کامیاب رہے۔
گانٹھ کے غیر معمولی حجم کے باوجود آپریشن کے دوران مریض کے جسم سے صرف 100 ملی لیٹر خون ضائع ہوا۔













