ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب پر سکیورٹی کے لیے انحصار کرنے والے ممالک بالآخر اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی میں مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں۔
ولایتی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان علاقائی سکیورٹی اور تین متنازع جزائر کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر متعدد پیغامات میں گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ جزائر پر ایران کے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ جزائر ایران کے تھے اور ایران کے ہی رہیں گے۔
ولایتی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امارات کی جانب سے ان جزائر پر ملکیت کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محض بیانات سے جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا۔
یہ تینوں جزائر خلیج فارس کے اہم حصے میں واقع ہیں۔ ایران ان پر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات بھی ان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔
حالیہ جنرل اسمبلی اجلاس میں اماراتی حکام نے اس تنازع کو مذاکرات یا عالمی عدالت انصاف کے ذریعے پرامن انداز میں حل کرنے پر زور دیا تھا، تاہم ایران نے اپنے مؤقف میں تبدیلی نہیں کی۔
ایرانی رہنما کے مشیر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ ابوظبی کا حوالہ دیتے ہوئے بھی متحدہ عرب امارات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے دورے کے تقریباً ایک ہفتے بعد امارات کی جانب سے عرب حقوق اور اسلامی یکجہتی کی بات کرنا متضاد مؤقف ہے۔
نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ابوظبی میں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی تھی، جس کی تصدیق اماراتی سرکاری میڈیا نے بھی کی تھی۔
ولایتی نے مزید کہا کہ خطے کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی سکیورٹی پر انحصار مستقل نہیں ہوتا، کیونکہ ہمسایہ ملک اپنی جگہ موجود رہتا ہے جبکہ بیرونی طاقتیں وقت کے ساتھ خطے سے رخصت ہو سکتی ہیں۔
ولایتی کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کے دورۂ امارات اور واشنگٹن و ابوظبی کے سکیورٹی روابط کے حوالے سے تہران کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔













