اسلام آباد (30 ستمبر 2026): موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے ایک اور بڑا مطالبہ کر دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق موجودہ قرض پروگرام کی 1.2 ارب ڈالر کی پانچویں قسط کے حصول کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں عالمی مالیاتی ادارے کا ایک اور بڑا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرنے کا مطالبہ کر دیا اور اس کے ساتھ ہی توانائی کے شعبے میں سرکلر دیٹ کے اہداف حاصل کرننے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بریفنگ دی گئی، اور بتایا گیا کہ خطے کی صورتحال کی وجہ سے توانائی کا شعبہ متاثر ہوا ہے۔ زیرو ان فلو اہداف کے مطابق گردشی قرضہ 1600 ارب روپے تک محدود رکھنا ہدف ہے۔
آئی ایم ایف کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر بھی بریفنگ دی گئی اور آگاہ کیا کہ رواں مالی سال پاکستان 15 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کرے گا۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم بنانے کیلیے سعودی عرب سے بر وقت تعاون حاصل کیا۔
جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔ ان میں 1.4 ارب ڈالر چینی کمرشل قرض اور 80 کروڑ ڈالر کے دیگر واجبات ادا کیے گئے جب کہ رواں مالی سال ساڑھے 21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔
آئی ایم ایف کو بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 3 برسوں میں 28 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران 9 ارب ڈالر کی خریداری مقامی مارکیٹ سے کی گئی۔
پاکستانی وفد نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ رواں مالی سال آئندہ 11 ماہ کے دوران ادائیگیوں کا پریشر کم ہو جائے گا۔ رواں مالی سال 21.5 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں واپس کرنے ہیں، ان پر ساڑھے 3 ارب ڈالرز سود ہے۔ یہ ادائیگی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5 ارب ڈالر کم ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ آج آٹو پالیسی پر خصوصی سیشن ہوگا۔














