• Home
  • Blog
  • بہاول وکٹوریہ ہسپتال کڈنی سنٹر میں ڈائیلاسز مشینوں کا بحران، 36 میں سے 25 مشینیں خراب ہونے کا دعویٰ
Image

بہاول وکٹوریہ ہسپتال کڈنی سنٹر میں ڈائیلاسز مشینوں کا بحران، 36 میں سے 25 مشینیں خراب ہونے کا دعویٰ

🏥 بہاول وکٹوریہ ہسپتال کا کڈنی سنٹر، ڈائیلاسز مشینوں کا بحران اور سینکڑوں مریضوں کا سوال

کیا بہاولپور کے کڈنی کے مریضوں کے لیے ڈائیلاسز کی سہولت ایک نئے سنگین بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟

بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے کڈنی سنٹر میں روزانہ بڑی تعداد میں گردوں کے مریضوں کو مفت ڈائیلاسز کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق مارچ 2025ء میں ہسپتال انتظامیہ نے بتایا تھا کہ کڈنی سنٹر میں چار شفٹوں کے دوران روزانہ ایک سو سے زائد مریضوں کے مفت ڈائیلاسز کیے جا رہے ہیں۔

یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کڈنی سنٹر جنوبی پنجاب کے مریضوں کے لیے کتنی اہم طبی سہولت بن چکا ہے۔

⚠️ اصل تشویش کیا ہے؟

اب سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق کڈنی سنٹر میں موجود ڈائیلاسز مشینوں کی ایک بڑی تعداد خراب یا ناکارہ ہونے کی وجہ سے ڈائیلاسز کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔

زیرِ گردش معلومات کے مطابق کڈنی سنٹر میں 36 ڈائیلاسز مشینیں موجود ہیں، جن میں سے 25 مشینوں کے خراب یا ناکارہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ بعض پرانی مشینیں کئی گھنٹے چلنے کے بعد کام چھوڑ دیتی ہیں، جبکہ کچھ مشینوں کو ناقابلِ استعمال قرار دے کر متعلقہ کمپنی کو ڈسکارڈ کرنے کے لیے مراسلہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

تاہم ان اعداد و شمار اور مشینوں کے ماڈلز کے بارے میں متعلقہ ہسپتال یا محکمہ صحت کی تازہ باضابطہ تفصیل عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔

🩺 صرف دو گھنٹے کا ڈائیلاسز کیوں تشویش ناک ہے؟

گردوں کے ناکارہ ہونے کے مریضوں کے لیے ڈائیلاسز معمول کی سہولت نہیں بلکہ زندگی برقرار رکھنے والا علاج ہے۔ اگر مشینوں کی کمی کے باعث مریضوں کو مقررہ دورانیے کے بجائے کم وقت کا ڈائیلاسز مل رہا ہے یا انہیں طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے تو یہ صورتحال فوری طبی اور انتظامی توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔

خاص طور پر ایسے مریض جو مستقل بنیادوں پر ڈائیلاسز کے محتاج ہیں، ان کے علاج میں رکاوٹ انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن سکتی ہے۔

🏥 حکومت پنجاب کی ذمہ داری

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بہاولپور کڈنی سنٹر میں ڈائیلاسز کی سہولت وزیرِ اعلیٰ پنجاب ڈائیلاسز پروگرام کے تحت مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ مارچ 2025ء کی سرکاری رپورٹ میں بھی اس پروگرام کے تحت روزانہ چار شفٹوں میں سو سے زائد مریضوں کے مفت ڈائیلاسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

نومبر 2025ء میں ڈپٹی کمشنر بہاولپور کے کڈنی سنٹر کے دورے کے دوران بھی انتظامیہ نے ڈائیلاسز سمیت طبی سہولیات کا جائزہ لیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ مریضوں کو طبی خدمات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

جبکہ 11 ستمبر 2026ء کو کمشنر بہاولپور ڈویژن عرفان علی کاٹھیا اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سید حسن رضا نے بھی کڈنی سنٹر کا دورہ کیا، جہاں طبی سہولیات، انتظامی امور اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ اب اصل سوال یہ ہے کہ اگر مشینوں کی خرابی کا مسئلہ واقعی اس حد تک سنگین ہے تو اس کی بروقت نشاندہی اور مستقل حل کیوں نہیں نکالا گیا؟

📢 50 نئی مشینوں کی ضرورت؟

مریضوں اور متعلقہ حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ کڈنی سنٹر کی موجودہ ضرورت کو دیکھتے ہوئے بڑی تعداد میں نئی اور جدید ڈائیلاسز مشینیں فراہم کی جائیں۔

اگر 50 نئی مشینوں کی ضرورت کا دعویٰ درست ہے تو حکومت پنجاب، محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کو اس ضرورت کا باضابطہ تکنیکی جائزہ لے کر عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ:

کتنی مشینیں فعال ہیں؟

کتنی خراب ہیں؟

کتنی مرمت کے قابل ہیں؟

کتنی مستقل طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں؟

اور موجودہ مریضوں کے لیے کتنی مشینیں درکار ہیں؟

یہ سوالات صرف انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ انسانی زندگی سے متعلق ہیں۔

🤲 بہاولپور کے مریضوں کے لیے فوری اقدام ضروری

کڈنی سنٹر ایک ایسی سہولت ہے جہاں آنے والا مریض عام طور پر اپنی مرضی سے ڈائیلاسز ملتوی نہیں کر سکتا۔ اس لیے مشینوں کی دستیابی، ان کی بروقت مرمت، متبادل مشینوں کا انتظام اور مطلوبہ تعداد میں نئی مشینوں کی فراہمی کو معمول کی خریداری یا دفتری کارروائی سمجھنے کے بجائے ہنگامی طبی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

حکومت پنجاب، محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر، بہاول وکٹوریہ ہسپتال کی انتظامیہ، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ ہے کہ کڈنی سنٹر کی ڈائیلاسز مشینوں کا فوری تکنیکی آڈٹ کرایا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔

اگر مشینوں کی خرابی کے دعوے درست ہیں تو قابلِ استعمال مشینوں کی فوری مرمت، ناکارہ مشینوں کی تبدیلی اور ضرورت کے مطابق نئی مشینوں کی فراہمی کا عملی منصوبہ سامنے آنا چاہیے۔

کیونکہ ڈائیلاسز مشین صرف ایک مشین نہیں، کسی مریض کی زندگی سے جڑی ہوئی ضرورت ہے۔

اہلِ بہاولپور! آپ کی رائے کیا ہے؟

اگر یہ معلومات آپ کے لیے اہم ہیں تو میرے پیج کو لائیک اور فالو کریں تاکہ بہاولپور اور عوامی مسائل سے متعلق اہم معلومات آپ تک بروقت پہنچتی رہیں

متعلقہ خبریں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگیا

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوگیا۔ اسپیکر قومی…

ByByMomina Fatima Oct 3, 2026

مزمل اسلم: نیشنل ہائی وے نیٹ ورک 14 ہزار کلومیٹر ہے، مریم نواز کا پنجاب میں 45 ہزار کلومیٹر سڑکیں بنانے کا دعویٰ حیران کن ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے مشیر برائے خزانہ  مزمل اسلم نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے…

ByByMomina Fatima Oct 3, 2026

ملازمین کی تنخواہوں کیلئے رقم دستیاب نہ ہونے کے باعث جامعہ کراچی کے دیوالیہ ہونیکا خدشہ

ڈائریکٹر فنانس جامعہ کراچی  نے انکشاف کیا ہے کہ جامعہ کراچی کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے حتیٰ…

ByByMomina Fatima Oct 3, 2026

پی ٹی آئی لانگ مارچ: اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع

اسلام آباد: پی ٹی آئی کےلانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب اور  وفاقی دارالحکومت میں رینجرز کی تعیناتی…

ByByMomina Fatima Oct 3, 2026

ایک جواب دیں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top