سرحد پر سلیوٹ، کشمیر پر الزامات کی جنگ ![]()
![]()
پاک بھارت تعلقات میں ان دنوں دو بالکل مختلف تصویریں ایک ساتھ سامنے آئی ہیں۔
واہگہ اٹاری سرحد
شدید کشیدگی کے باوجود سرحد پر پاکستانی رینجرز اور بھارتی افسر نے ایک دوسرے کو سلیوٹ کیا۔ یہ رسمی آداب برسوں سے دونوں جانب کی پیشہ ورانہ فوجی روایت کا حصہ ہیں۔
بھارت کا دعویٰ
بھارتی فوج کی چنار کور کے مطابق 30 ستمبر کو بڈگام میں “آپریشن کوراگ” کے دوران لشکر طیبہ کا محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ مارا گیا۔ بھارت نے اسے پاکستان کی ایس ایس جی کا سابق کمانڈو اور پہلگام حملے کا ملزم قرار دیا۔
پاکستان کا جواب
یکم اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ریٹائرڈ ایس ایس جی حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے بھارتی کارروائی کو “فالس فلیگ” قرار دیتے ہوئے کہا: “اس سارے ڈرامے کی کیا ضرورت تھی؟” محمد آصف کے مطابق وہ 2023 میں ریٹائر ہوئے تھے اور زندہ اور صحت مند ہیں۔
فیروزپور سرحد پر نیا تنازع
2 اکتوبر کو بھارت نے پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ تین افراد سرحد پار کر کے داخل ہوئے، اور اس نے پاکستان کے الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیا۔ پاکستان نے بھی اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔
کیا ثابت ہوا؟
پاکستان نے بھارتی شناخت پر سنجیدہ سوال اٹھا دیا ہے۔
بڈگام میں مارے گئے شخص کی اصل شناخت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
فالس فلیگ کے الزام کے حق میں آزادانہ شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
بھارت کی جانب سے شناخت پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔














