کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا شکار شہریوں کی جانب سے چھینے جانے والے موبائل فونز کی لوکیشن پولیس کو بتانے کے باوجود پولیس موبائل فونز برآمد کرنے میں ناکام ہے۔
شہر میں جدید ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی معلومات بھی پولیس کے لیے بے سود ثابت ہونے لگیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کا شکار ہونے والے شہریوں کی جانب سے موبائل فونز کی لوکیشن ٹریس کر کے پولیس کو بتائی گئیں تاہم پولیس اس کے باوجود نہ تو ملزمان کو گرفتار کر سکی اور نہ ہی موبائل فون برآمد کر سکی۔
30 جولائی 2026 کو بلوچ کالونی تھانے کی حدود ڈیفنس ویو فیز ٹو عائشہ مسجد کے قریب نوجوان سے موبائل فون چھینا گیا۔ نوجوان نے موبائل فون کی لوکیشن اپنے طور پر حاصل کی جو کہ ضلع سینٹرل کے علاقے ایف سی ایریا کی آ رہی تھی تاہم پولیس کو آگاہ کرنے کے باوجود تاحال پولیس موبائل فون برآمد نہیں کروا سکی۔
اسی طرح کا ایک واقعہ 17 اگست 2026 کو ائیر پورٹ تھانے کی حدود ائیر پورٹ پل پر پیش آیا جہاں نوجوان سے مسلح ملزمان نے ملکی و غیر ملکی کرنسی، پاسپورٹ، لیپ ٹاپ اور تین موبائل فون چھین لیے۔ نوجوان کو ایک روز بعد چین جانا تھا۔ نوجوان نے موبائل فون کی لوکیشن خود سے ٹریس کی جو قائد آباد کے علاقے مرغی خانہ کی آ رہی تھی اور پولیس کو آگاہ کیا تاہم اس معاملے میں بھی پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی اور تاحال موبائل فونز برآمد نہیں کیے جا سکے۔
پولیس کی جانب سے مذکورہ لوکیشنز پر چھاپہ مارا گیا اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کر کے موبائل فونز برآمد کیے گئے۔ موبائل فونز کی لوکیشن ٹریس ہونے کے بعد پولیس کے پاس کارروائی کے لیے اہم ابتدائی معلومات موجود ہوتی ہیں تاہم ان معلومات کو عملی کارروائی میں تبدیل نہ کیے جانے کے باعث شہری اپنے قیمتی موبائل فونز سے محروم ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد شہری پہلے ہی شدید پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، اس کے باوجود اگر وہ اپنی مدد آپ کے تحت موبائل فون کی لوکیشن تلاش کر کے پولیس کو فراہم کریں اور اس کے بعد بھی کارروائی نہ ہو تو پولیس کی موبائل فون اسنیچنگ کے خلاف حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
شہریوں نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ اگر شہری خود موبائل فون کی لوکیشن ٹریس کر کے پولیس کو فراہم کر سکتے ہیں تو پولیس ان لوکیشنز پر کارروائی کر کے ملزمان تک کیوں نہیں پہنچ پاتی؟
دوسری جانب یہ سوال بھی اہم ہے کہ شہریوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی لوکیشن اور دیگر تکنیکی معلومات کو پولیس کے تفتیشی نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے یا نہیں؟
متاثرہ شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کا نوٹس لیا جائے، موبائل فونز کی فراہم کردہ لوکیشن پر ہونے والی کارروائیوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون اسنیچنگ کے خلاف صرف مقدمات کا اندراج کافی نہیں بلکہ چھینے گئے موبائل فونز کی برآمدگی اور ملزمان کی گرفتاری ہی پولیس کی کارکردگی کا اصل پیمانہ ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ کراچی میں رواں برس ماہ ستمبر تک شہریوں سے کروڑوں روپے مالیت کے 14 ہزار 538 موبائل فون چھینے جا چکے ہیں۔














