غزہ میں شدید بارش نے اسرائیلی حملوں کے باعث بے گھر فلسطینی خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔
بارش کا پانی خیموں اور سڑکوں پر جمع ہوگیا جس سے عارضی پناہ گاہیں بارش کے پانی میں ڈوب گئیں۔
بعض متاثرین نے متبادل جگہ ملنے پر سامان اور اہلِ خانہ کو منتقل کردیا جبکہ کئی فلسطینی خیموں میں پانی بھر جانے کے باعث بے بسی کی تصویر بنے بالٹیوں سے خیموں کا پانی نکالتے رہے۔
اسرائیلی کارروائیوں میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث فلسطینی مسلسل تیسرا موسم سرما بے سروسامانی میں گزارنے پر مجبور ہیں ۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے بتایا کہ گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کم از کم 70 ہزار خیمے بارش کے پانی کی زد میں آ چکے ہیں جس سے دسیوں ہزار بے گھر افراد متاثر ہوئے ہیں۔
غزہ کی سول ڈیفنس سروس کا کہنا ہے کہ انہیں بے گھر ہونے والے شہریوں کی جانب سے مدد کے لیے متعددکالز موصول ہوئی ہیں۔
میونسپل اور سول ڈیفنس حکام نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایندھن کی شدید قلت اور آلات کو پہنچنے والے بھاری نقصان کی وجہ سے اس صورتحال سے نمٹنے سے قاصر ہیں۔
حکام کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے دوران بلڈوزروں اور پانی نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی مشینوں سمیت سول ڈیفنس کی سیکڑوں گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کے 20 لاکھ سے زائد رہائشیوں کی اکثریت در بدر اور غزہ کا بیشتر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے باعث آبادی کی اکثریت اب انہی خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔














