احمد پور شرقیہ سے بہاولپور آنے والی کوسٹروں اور اڈہ مالکان کے درمیان روز بروز بڑھتے ہوئے تنازعات نے مسافروں، خصوصاً طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ صبح کے اوقات میں طلبہ کے کالج جانے اور ملازمین کے دفاتر پہنچنے کا وقت ہوتا ہے، ایسے میں معمولی معاملات پر بحث و تکرار کے باعث مسافروں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔
آج صبح بھی خان پور سے ایک طالب علم کو کوسٹر میں سوار کرنے پر اڈہ مالکان کی جانب سے اڈہ فیس کے معاملے پر بحث شروع ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے تلخ کلامی تک جا پہنچی۔ اڈے سے ایک شخص کوسٹر کے ساتھ لٹک کر اندر آ گیا اور مسافروں کے سامنے نامناسب گفتگو شروع کر دی۔ بعد ازاں معاملہ مزید کشیدہ ہوا تو واہی حسین کے سٹاپ پر اپنے افراد کو موقع پر بلا کر ڈرائیور اور کنڈکٹر سے مارپیٹ کی گئی، جس کے باعث کوسٹر کافی دیر تک رکی رہی جبکہ مسافروں کو بھی بدتمیزی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ صورتحال کسی صورت معمول کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ اڈہ مالکان اور کوسٹر مالکان کے درمیان اڈہ فیس، سٹاپ اور دیگر معاملات واضح طور پر طے کروائے اور اس حوالے سے ایک باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا جائے۔
مسافروں کے ساتھ بدتمیزی، گاڑی روک کر لڑائی جھگڑا یا دفتری اوقات میں یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ روزانہ کے ایسے تماشوں کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ شہری بلا خوف و پریشانی اپنے تعلیمی اداروں اور دفاتر تک بروقت پہنچ سکیں۔














