امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ان کی ہدایت پر مختلف ممالک میں وفود بھیجے گئے تاکہ انہیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے قائل کیا جا سکے۔
انہوں نے ایکس پر جاری اپنے حالیہ بیان میں ایرانی ایئرلائنز اور بینکوں کے خلاف عائد کی گئی نئی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ کے مطابق ترکی اور عمان نے ماہان ایئر کی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایرانی ایئرلائنز کی تمام پروازیں روک دی ہیں۔
انہوں نے ایرانی بینکاری شعبے کے خلاف نئی پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے بدھ کو ایران کے بینک ملی کی شاخوں کے ساتھ لین دین معطل کرتے ہوئے اس پر منی لانڈرنگ، دہشتگردی کی مالی معاونت اور اسلحے کے پھیلاؤ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ ترکی نے بھی گزشتہ ہفتے ایران کے بینک ملت کا آپریٹنگ لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے دوبارہ شیئر کی گئی ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے حکام گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 50 سے زائد ممالک کے ساتھ تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کے منصوبے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
سکاٹ بیسنٹ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن کا مقصد دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز کی سرگرمیاں بند کرنا ہے۔ تاہم ایران کی بعض چھوٹی ایئرلائنز اب بھی بین الاقوامی پروازیں، خصوصاً چین کے لیے، جاری رکھے ہوئے ہیں۔














