سائنسدانوں نے نظام شمسی کے اس مقام کی نشاندہی کی ہے جہاں زمین سے ہٹ کر کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے۔
سائنسدانوں کے خیال میں سیارہ زحل کے چھٹے بڑے چاند انسلیدس میں کسی قسم کی زندگی موجود ہو سکتی ہے۔
نظام شمسی کے اس چاند سے سائنسدانوں نے پانی کے بخارات کو نکلتے دیکھا اور اس کے بعد سے زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے اسے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اب اس خیال کو مزید تقویت اس وقت ملی جب سائنسدانوں نے جاپان میں سمندر کی گہرائی میں پائے جانے والے جراثیم انسلیدس کے نمکین پانی کے سمندر کے مشکل حالات میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
انسلیدس کی برفانی سطح کے نیچے پانی کے سمندر موجود ہیں۔
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ یہ جراثیم سمندری سطح میں موجود ہائیڈرو تھرمل سوراخوں میں نشوونما پاتے ہیں جبکہ ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو میتھین میں تبدیل کرکے انسلیدس کے سمندر جیسے حالات میں زندہ رہ سکتے ہیں۔
اس تحقیق کام سے یہ بھی عندیہ ملا کہ یہ چاند قابل رہائش ہوسکتا ہے اور ایسا نہ بھی ہو تو بھی کم از کم وہاں کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے۔
جرمنی کی Ludwig-Maximilian یونیورسٹی کے ماہرین نے یہ دریافت کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے سے علم ہوتا ہے کہ یہ جراثیم یا ان سے ملتے جلتے جرثومے انسلیدس پر زندہ بچ سکتے ہیں۔
زحل وہ چاند ہے جس کے گرد لگ بھگ 300 چاند گردش کر رہے ہیں مگر انسلیدس سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز 2000 کی دہائی میں روبوٹیک مشنز کے بعد بنا۔
ناسا کے کیسینی اسپیس کرافٹ مشن اور بعد ازاں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے وہاں سے پانی کے بخارات اور برف کے ذرات کے اخراج کا انکشاف ہوا جبکہ برفانی سطح کے نیچے ایک بڑے نمکین پانی کے سمندر کی موجودگی کے شواہد بھی ملے۔
اس سمندری کی گہرائی میں مجود سطح میں ہائیڈرو تھرمل سوراخ موجود ہونے کا امکان ہے جن کے اردگرد کا پانی گرم ہوسکتا ہے۔
2025 میں سائنسدانوں نے کیسینی کے نمونوں میں نامیاتی مرکبات کو دریافت کیا گیا۔
اس نئی تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے لیبارٹری میں انسلیدس کے چاند جیسا ماحول پیدا کرکے جراثیموں کی بقا کی جانچ پڑتال کی۔
حیران کن طور پر یہ جراثیم اس ماحول میں نشوونما پانے میں کامیاب رہے حالانکہ حالات بہت مشکل تھے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال جرمنی کی Freie یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ انسلیدس سے خارج ہونے والے برفانی کرسٹلز میں پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز موجود ہوتے ہیں۔
ان میں سے کچھ مالیکیولز ایسے کیمیائی ردعمل کا نتیجہ ہوتے ہیں جو زندگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس دریافت کا مطلب یہ ہے کہ زحل کا یہ چاند زندگی کی معاونت کی اہلیت رکھتا ہے۔
اس چاند میں سیال پانی کی سپلائی مسلسل جاری رہتی ہے، ہائیڈرو تھرمل توانائی وہاں موجود ہے جبکہ ایسے کیمیائی عناصر اور پیچیدہ نامیابی مالیکیولز بھی وہاں موجود ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
اس تحقیق سے ٹھوس بنیادوں پر انسلیدس میں زندگی کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی، مگر ایسا قوی امکان ضرور ہے کہ وہاں کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ اس چاند پر زندگی دریافت نہ ہونا بھی بہت بڑی دریافت ہے کیونکہ اس سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ ایسے موزوں ماحول میں کسی قسم کی زندگی کیوں موجود نہیں۔
اس چاند کی سطح پر درجہ حرارت بہت زیادہ کم ہوا ہے جو کہ منفی 201 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوسکتا ہے۔
مگر سائنسدانوں نے اس کی برفانی سطح کے نیچے ایک بڑے سیال سمندر کو دریافت کیا ہے۔
پانی کی پھوار چاند کے جنوبی قطب کے قریب موجود دراڑوں سے نکلتی ہے اور پھر سطح پر گر جاتی ہے جبکہ کچھ برفانی کرسٹلز بالائی خلا تک بھی چلے جاتے ہیں۔
زمین پر اس طرح کے نامیاتی مالیکیولز زندگی کی جانب لے جانے والے کیمیائی ردعمل کا باعث بنتے ہیں، جس سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ زحل کا یہ چاند خلائی زندگی کا گھر ہوسکتا ہے۔
یورپین اسپیس ایجنسی کی جانب سے مستقبل میں انسلیدس کی جانب ایک مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ نہ صرف وہاں کے جنوبی قطب کی برف کی مزید مقدار اکٹھی کی جاسکے بلکہ اسے چاند کی سطح پر اتارا جاسکے۔
خیال رہے کہ مئی 2023 میں ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زحل کے اس چاند سے پانی کے بخارات پر مبنی دھواں خلا میں خارج ہوتے دیکھا تھا۔
اس چاند سے اٹھنے والا یہ دھواں خلا میں لگ بھگ 6 ہزار میل تک پہنچ گیا تھا، جس سے ہر سیکنڈ 300 لیٹر کی رفتار سے پانی نکل رہا تھا۔
انسلیدس نظام شمسی کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں سیال پانی موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں زندگی کی تلاش کے حوالے سے سائنسدان کافی کام کر رہے ہیں۔














