• Home
  • Blog
  • ایمان اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس: ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج برہم، ڈی ایس پی کی سرزنش، ہتھکڑی منگوالی
Image

ایمان اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس: ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج برہم، ڈی ایس پی کی سرزنش، ہتھکڑی منگوالی

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست ضمانت کے کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہتھکڑی منگوا لی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی۔

تفتیشی افسر کی غیر موجودگی پر جج برہم ہو گئے اور ڈی ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

وکیل صفائی ریاست علی نے کہا کہ عدالت میں تفصیلی دلائل دینے کے لیے تیار ہوں، جس پر جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کدھر ہیں؟ عدالتی اہلکار نے بتایا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کدھر آؤٹ آف سٹی ہیں؟ بلائیں ڈی ایس پی کو، زبانی کلامی باتیں تو نہیں مانی جائیں گی۔ فاضل جج نے ہتھکڑی منگوانے کے ساتھ سکیورٹی انچارج کو بھی بلوا لیا۔

ڈی ایس پی کے پیش ہونے پر جج نے پوچھا کدھر ہے کیس کا ریکارڈ؟ ڈی ایس پی کے انگریزی میں بات کرنے پر جج ابو الحسنات ذوالقرنین برہم ہو گئے اور ریمارکس دیئے کہ میرے ساتھ اردو میں بات کرو۔

ڈی ایس پی نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق تفتیشی آؤٹ آف سٹی ہے، جس پر جج نے کہا آپ ایسے کیسے آگئے، مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں۔ ڈی ایس پی بولے مجھے کچھ وقت دے دیں میں بتاتا ہوں، جج نے کہا ریکارڈ پر کوئی چیز لائیں، آپ کو بھی اور ایس پی کو بھی 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا، شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو، بدمعاشی بنائی ہوئی ہے۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ڈی ایس پی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ادھر کٹہرے میں الٹا منہ کرکے کھڑا کروں گا، لائیں مجھے ثبوت دکھائیں، یونیفارم سمیت ابھی 6 ماہ کے لیے آپ کو جیل بھیج دوں گا، پھر عدالتوں پر بات آتی ہے، ڈرامہ بنا ہوا۔

ڈی ایس پی کا کہنا تھا تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے، ڈی ایس پی نے واٹس ایپ کاپی کا پرنٹ عدالت میں پیش کر دیا، جسے عدالت نے لینے سے انکار کر دیا، جج ابو الحسنات نے واٹس ایپ کاپی واپس ڈی ایس پی کی طرف پھینک دی اور ڈی ایس پی کو اصل کاپی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑے رہنے کا حکم دیتے ہوئے سکیورٹی انچارج سے کہا کہ جب میں فیصلہ کروں گا، آپ نے ان کو جانے نہیں دینا، گرفتار کر لینا ہے، گیٹ والے کو کہیں، ڈی ایس پی باہر نہ جائے، جوڈیشل فورس ہونی چاہیے تاکہ عدالت اپنے حکم پر فوری عمل درآمد کرا سکے، یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں۔

پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے مختلف آئینی اقدامات پر غور

اسلام آباد: وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مختلف آئینی…

ByByMomina Fatima Oct 5, 2026

اسلام آباد مارچ: قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید ترین آلات سے لیس

اسلام آباد: متعدد ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے…

ByByMomina Fatima Oct 5, 2026

صدر نے تاحال صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹ نہیں مانگی: گورنر کے پی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صدر آصف زرداری نے تاحال صوبے میں امن و…

ByByMomina Fatima Oct 5, 2026

سرکاری قرضوں میں 10 سال کے دوران 340 فیصد تاریخی اضافہ، انکشاف سامنے آگیا

اسلام آ باد: پاکستان کے سرکاری قرضوں میں 10سال کے دوران 340 فیصد کے تاریخی اضافے کا انکشاف…

ByByMomina Fatima Oct 5, 2026

ایک جواب دیں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top