مذاکرات کی میز سے لانگ مارچ تک: حکومت اور پی ٹی آئی کی بات چیت کیوں ٹوٹی؟
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے تین دور اتوار کی صبح تقریباً تین بجے کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ اس کے چند گھنٹے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گیا۔
سب سے بڑا اختلاف خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی پر تھا۔ حکومت چاہتی تھی کہ صوبائی حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کی واضح مذمت کرے، افغان مہاجرین کی واپسی کی حمایت کرے اور افغان طالبان سے رابطے ختم کرے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وفاق صوبے سے مشاورت کے بغیر آپریشنز کی حمایت مانگ رہا تھا، جبکہ پارٹی چاہتی تھی کہ ایسی کارروائیاں باہمی ر
دوسرا بڑا نکتہ عمران خان تھے۔ اسد قیصر کے مطابق پی ٹی آئی تمام مطالبات واپس لینے کو تیار تھی، بس قیادت کی عمران خان تک رسائی چاہتی تھی۔ حکومت نے مذاکراتی ٹیم کی ملاقات سے معذرت کی، تاہم منگل سے اہل خانہ اور وکلا کی ملاقاتیں بحال کرنے کا اعلان کیا۔ عمران خان کی ہسپتال منتقلی، ذاتی معالج تک رسائی اور مکمل طبی معائنے کے مطالبات پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔
ناکامی کے بعد دونوں جانب سے الزام تراشی جاری ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق 99 فیصد معاملات طے ہو چکے تھے، لیکن آخری لمحے خیبر پختونخوا حکومت پیچھے ہٹ گئی۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا: “میں نے پارلیمنٹ میں اپنے 25 برسوں میں کبھی کسی موقع کو اس قدر لاپرواہی سے ضائع ہوتے نہیں دیکھا۔”
لانگ مارچ کا قافلہ کرک اور کوہاٹ سے ہوتا ہوا پشاور کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سہیل آفریدی 8 اکتوبر کو خیرآباد میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اور اب سب کی نظریں اسلام آباد کی حدود پر ہیں۔














