اسلام آباد (28 ستمبر 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے موقع پر خاتون وکیل کے کالا سوٹ پہن کر عدالت میں پیش ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس خادم سومرو نے خاتون وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ کیا آپ وکیل ہیں؟
خاتون نے جواب دیا کہ جی میں وکیل ہوں۔
جسٹس خادم سومرو جواب سن کر برہم ہوئے اور کہا کہ آپ یونیفارم میں نہیں۔ آپ لوگوں کو بول بول کر تھک گئے ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایک خاتون وکیل کالا سوٹ پہن کر عدالت آ گئی تھیں۔
اس موقع پر جسٹس خادم سومرو نے جسٹس عمیر مجید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا، آپ کہہ دیں۔
جسٹس عمیر مجید نے خاتون وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا آپ کا یونیفارم نہیں، اس لیے آپ پیچھے جا کر بیٹھ جائیں۔
جسٹس عمیر مجید ملک کی ہدایت پر خاتون وکیل روسٹرم سے پیچھے نشست پر جا کر بیٹھ گئیں۔














