واشنگٹن: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران دشمن سے جنگ دوبارہ شروع ہونے کے لیے تیار ہے، چاہے نوبت قیامت خیز جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔
امریکی ٹی وی این بی سی کے پروگرام میٹ دی پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایران کے امن منصوبے کی شرائط دہرائیں، اور کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ ’’قیامت خیز جنگ‘‘ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
انھوں نے کہا ’’ہم اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کے سامنے ڈٹے رہیں گے، یہاں تک کہ اگر معاملہ قیامت خیز جنگ تک پہنچ جائے، اسی کے ساتھ ہم سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہیں۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اثاثے، جو غیر قانونی طور پر منجمد کیے گئے ہیں، انھیں جاری کیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ہو، ہم کچھ ایسی چیزیں چاہتے ہیں جن کا امریکا گزشتہ معاہدوں میں پہلے ہی وعدہ کر چکا ہے۔
انھوں نے کہا گزشتہ سال ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا تھا، اگر آپ ہم سے پوچھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں سفارت کاری کی طرف واپس جانا چاہیے، لیکن میں اب بھی سفارت کاری کی کوشش کر رہا ہوں، کیوں کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں امن کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
عراقچی نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کو ’’میز پر موجود ایک انتہائی معقول منصوبہ‘‘ قرار دیا، حالاں کہ صدر ٹرمپ اس پیشکش کو مسترد کر چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس تجویز میں امریکا کی جانب سے ایران کے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے کچھ رقم غیر منجمد کرنا، ناکہ بندی ختم کرنا اور پابندیوں میں نرمی کرنا شامل تھا، جس کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ تاہم ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تجویز قابل قبول نہیں تھی، جب کہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا تھا کہ اس میں امریکا سے ابتدا ہی میں بہت زیادہ رعایتیں دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقچی نے کہا ’’مجھے کہنا ہوگا کہ اگرچہ ہم نے صدر ٹرمپ سے سنا ہے کہ وہ اس معاہدے کو مسترد کر رہے ہیں، لیکن ہم اب بھی ثالثوں کے ذریعے سرکاری جواب کے منتظر ہیں۔‘‘














