گجرات(29 اگست 2026): گجرات میں بدھ کے روز سے گھر سے لاپتہ ہونے والی چار سالہ بچی نور فاطمہ کی لاش ایک برساتی نالے سے برآمد کر لی گئی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نور فاطمہ کی لاش پانی میں بہہ جانے کی وجہ سے گھر سے تقریباً 5 کلومیٹر دور تک چلی گئی تھی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معصوم بچی کو اس کے اپنے کزن 16 سالہ فیضان نے اغوا کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بچی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔بچی کے والد کا کہنا ہے کہ ملزم نے جب معصوم نور فاطمہ کو برساتی نالے میں پھینکا تو وہ زندہ تھی۔
یاد رہے کہ اس حوالے سے پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ چار سالہ نور فاطمہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے والے 16 سالہ چچا زاد بھائی فیضان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بچی کے والد ذیشان حیدر نے بتایا تھا کہ زیر حراست ملزم فیضان کی نشان دہی پر ریسکیو آپریشن کیا گیا، انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی مدد کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ میری معصوم بیٹی کی بازیابی کے لیے مدد کریں۔
قبل ازیں پولیس نے کہا تھا کہ بچی کو مبینہ طور پر اس کے کزن نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور لاش بوری میں بند کرکے نالے میں پھینک دی۔ ادھر گزشتہ دو روز میں چار گم شدہ بچیوں کی لاشیں ملنے کے واقعات پر شہریوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔














