ڈائریکٹر فنانس جامعہ کراچی نے انکشاف کیا ہے کہ جامعہ کراچی کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے حتیٰ کہ ملازمین کے تنخواہیں ادا کرنے کی رقم بھی دستیاب نہیں ہوگی۔
قائم مقام وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر طفیل جوکھیو نے حکومت سندھ کی جانب سے گرانٹ دینے کے انکار کے باوجود ملازمین کو ہاؤس سیلینگ دینے کا فیصلہ کردیا جس کے لیے یونیورسٹی کے سینڈیکٹ و فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی۔
انتظامیہ جامعہ کراچی کے مطابق ہاؤس سیلینگ کی مد میں ماہانہ5 کروڑ روپے کی رقم خرچ ہوگی جبکہ سالانہ تقریباً 54 کروڑ روپے خرچ ہونگے۔
وائس چانسلر کے فیصلے پر ڈائریکٹر فنانس جامعہ کراچی نے ان سے تحریری اختلاف کیا اور کہا کہ جامعہ کراچی کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں کہ سالانہ کروڑوں روپے ادا کیے جائیں، اگر یہی صورتحال رہی تو جامعہ کراچی دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی رقم دستیاب نہیں ہوگی ۔
قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو نے ڈائریکٹر فنانس کی رائے کے برخلاف ملازمین کو ہاوس سیلینگ دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور بیرون ملک دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت سندھ بھی ملازمین کی ہاؤس سیلینگ کے لیے جامعہ کراچی کو گرانٹ جاری کرنے سے انکار کرچکی ہے جبکہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے بھی فنڈز موجود نا ہونے کے باعث ملازمین کو ہائوس سیلینگ دینے سے انکار کیا تھا۔














