واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) — امریکا نے غیر ملکی مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ایران یا اس کے بینکاری شعبے کے ساتھ کاروباری لین دین جاری رکھنے کی صورت میں انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ لین دین کرنے والے غیر ملکی بینکوں کو بغیر پیشگی اطلاع کے کسی بھی وقت امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن نے ایسے مالیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران سے متعلق لین دین اور کاروباری روابط فوری طور پر ختم کردیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی جوابی کارروائیوں کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پہنچے، جبکہ اہم تجارتی راستوں میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
امریکا نے اگست کے آخر سے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں اور اپنے اتحادیوں سمیت دیگر ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروباری لین دین جاری رکھنے کی صورت میں انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔














