جنیوا — اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حق سے متعلق قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کرلی، جس میں سرحد پار آبی تعاون کو بھی واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو سرحد پار آبی تعاون کے معاملے پر اہم سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پہلی بار قرارداد کے متن میں پانی کے سرحد پار تعاون کا واضح حوالہ شامل کیا گیا۔
یہ قرارداد جرمنی اور اسپین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جبکہ پاکستان نے سرحد پار آبی تعاون کو قرارداد کے حتمی متن کا حصہ بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے قرارداد سے سرحد پار آبی تعاون کا حوالہ حذف کرنے کی کوشش کی تھی۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک نے قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ قرارداد میں پہلی بار واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ سرحد پار آبی تعاون محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حقوق کے حصول سے براہِ راست منسلک ہے۔
قرارداد کی منظوری کے موقع پر پاکستان کی جانب سے فرسٹ سیکریٹری عدیل کھوکھر نے خطاب کیا۔ انہوں نے مشترکہ آبی وسائل کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پانی مشترکہ ہو، وہاں ذمہ داریاں بھی مشترکہ ہوتی ہیں۔
عدیل کھوکھر کا کہنا تھا کہ مشترکہ پانیوں پر تعاون ہمسایہ ممالک کے درمیان کسی احسان یا رعایت کا معاملہ نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی بالائی دریا کا ملک پانی کو سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کرسکتا۔ پانی کے وسائل کو سیاسی دباؤ کے بجائے تعاون، باہمی ذمہ داری اور مشترکہ مفادات کے اصولوں کے تحت استعمال کیا جانا چاہیے۔














