خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کے قریب واقع عراقی کردستان کے سرحدی شہر پنجوین سے رپورٹ کیا ہے کہ مقامی شہریوں میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات دوبارہ شدت اختیار کرنے کی صورت میں سرحدی علاقے ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
پنجوین کے رہائشی 57 سالہ احمد فرج نے بتایا کہ انہوں نے بچپن میں ایران عراق جنگ کے دوران شہر کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ ان کے مطابق جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خدشہ موجود ہے، کیونکہ ’جنگ میں پھر کوئی سرحد نہیں رہتی۔‘
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں پنجوین کے قریب ڈرونز اور میزائل بھی دیکھے گئے ہیں۔ اس عرصے میں ایران اور اس کے اتحادی عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے امریکی افواج کے زیر استعمال اڈوں اور ایرانی کرد مخالف گروہوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد اگرچہ تشدد کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم سرحدی علاقوں میں ممکنہ کشیدگی کے حوالے سے مقامی آبادی کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
احمد فرج نے بتایا کہ انہیں ایران عراق جنگ کے دوران پنجوین کی تباہی آج بھی یاد ہے۔ ان کے مطابق 1981 میں ایرانی حملے کے نتیجے میں شہر میں ’درجنوں شہری ہلاک‘ ہوئے تھے۔
بعد ازاں پنجوین کے مکینوں کو شہر سے نکال دیا گیا، جبکہ عراقی حکومت نے ایرانی افواج کو علاقے میں قیام سے روکنے کے لیے دھماکا خیز مواد اور بلڈوزروں کا استعمال کرتے ہوئے شہر کے بڑے حصے کو مسمار کر دیا تھا۔














