نیٹو میں امریکی نمائندے میتھیو وٹیکر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں دوبارہ کھولنے کی پیشکش مسترد کرنا درست فیصلہ تھا۔
میتھیو وٹیکر کے مطابق ایران کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’بے چین‘ ہے، جبکہ ان کے بقول ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کے ذریعے مؤثر نتائج حاصل کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے نامکمل اقدامات یا بظاہر معاہدے قابلِ قبول نہیں ہیں۔
امریکی سفارتکار نے تیل اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی تشویش کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب موجودہ صورتحال کامیابی سے حل ہو جائے گی اور جنگیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حق میں اختتام پذیر ہوں گی تو عالمی مارکیٹ میں تیل، گیس اور ڈیزل کی وافر فراہمی ممکن ہوگی، اور یہ عمل جلد از جلد ہونا چاہیے۔














