لندن: برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے چوری شدہ موبائل فونز چین منتقل کرنے والے ایک بڑے اسمگلنگ نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اسے ختم کر دیا، جبکہ کیس میں ملوث تین افراد کو مجموعی طور پر کئی برس قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق مذکورہ گروہ 2024 اور 2025 کے دوران لندن سے تقریباً 40 ہزار موبائل فونز چین اسمگل کرنے میں ملوث رہا، جو اس عرصے میں لندن سے چوری ہونے والے مجموعی موبائل فونز کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میٹ پولیس کے کمانڈر اینڈریو فیدر اسٹون نے بتایا کہ نیٹ ورک کے ارکان سوشل میڈیا کے ذریعے موبائل فون چوری کرنے والوں کو اپنے ساتھ ملاتے تھے اور نیا فون چوری کرکے لانے والے افراد کو 500 پاؤنڈ تک معاوضہ دیا جاتا تھا۔
پولیس کو اس نیٹ ورک کا سراغ ایک چوری شدہ موبائل فون کے مالک کی اطلاع سے ملا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک گودام میں کوریئر کمپنی کے پیکٹ سے موبائل فون کی گھنٹی سنائی دی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ چور فون کو ایلومینیم فوائل میں لپیٹنے میں ناکام رہے تھے، جس کے باعث اس کا سگنل بلاک نہیں ہو سکا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گودام سے 800 سے زائد چوری شدہ موبائل فون برآمد کیے۔ بعد ازاں فرانزک شواہد اور نگرانی کے ذریعے نیٹ ورک میں ملوث افراد تک پہنچا گیا۔
عدالت نے محمد خادی خیل کو ساڑھے 9 سال، عصمت میا خیل کو 9 سال جبکہ منصور محمد کو ساڑھے 6 سال قید کی سزا سنائی۔
رپورٹ کے مطابق لندن میں موبائل فون چوری کے سب سے زیادہ واقعات ویسٹ منسٹر کے علاقے میں پیش آتے ہیں۔














