رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان اپنے منفرد زرعی اور ماحولیاتی حالات کے باعث مختلف پھلوں، بالخصوص انگور کی کاشت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والے مجموعی انگوروں کا تقریباً 98 فیصد حصہ بلوچستان سے حاصل ہوتا ہے۔
زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل عبدالرحمان بازئی کے مطابق صوبے میں انگور کی پیداوار دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی موزوں آب و ہوا، زرخیز زمین اور مخصوص جغرافیائی حالات یہاں پیدا ہونے والے انگور کو غیر معمولی مٹھاس اور ذائقہ فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں دنیا کے میٹھے اور رسیلے انگوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
زرعی ماہر اور بلوچستان کے سابق سیکریٹری زراعت عبدالسلام بلوچ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انگور کی پیداوار کے لحاظ سے بلوچستان ملک میں سرفہرست ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں پیدا ہونے والے انگور نہ صرف مقدار بلکہ معیار کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
تاہم بدلتے ہوئے موسمی حالات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے بلوچستان میں انگور کی اس اہم فصل کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں تبدیلی، موسم کے غیر متوقع انداز اور دیگر ماحولیاتی عوامل باغات اور انگور کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع انگور کے ایک باغ کا دورہ کیا، جس کے ایک حصے کے بارے میں مالک کا دعویٰ ہے کہ وہ تقریباً 120 سال پرانا ہے۔ باغ کے مالک ملک یونس شاہوانی اپنے اس قدیم باغ سمیت دیگر باغات کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔
72 سالہ یونس شاہوانی کے مطابق اس باغ کی بنیاد تقریباً 120 سال قبل ان کے دادا نے رکھی تھی۔ آج بھی یہاں انگور کی کئی قدیم اقسام موجود ہیں۔
وہ جب اپنے باغ میں کاشت کی جانے والی تقریباً 20 اقسام کے نام گنواتے ہیں تو ان میں ایک منفرد قسم ’عسکری‘ بھی شامل ہے۔














