امریکا 30 ستمبر تک عراق میں موجود اپنے باقی ماندہ فوجیوں کا انخلا مکمل کرنے والا ہے، جس کے ساتھ عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی کا اختتام ہوجائے گا۔
یہ پیش رفت اس فوجی موجودگی کے خاتمے کی علامت ہے جو 2003 میں امریکی حملے کے بعد شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ بعد ازاں عراق میں شورش اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران بھی امریکی فوجی موجودگی برقرار رہی۔
امریکی افواج نے 2011 میں عراق سے انخلا کیا تھا، تاہم 2014 میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) کے خلاف کارروائیوں میں عراقی فورسز کی مدد کے لیے دوبارہ عراق واپس آئیں۔
امریکی فوجیوں کا موجودہ انخلا ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث عراق میں موجود امریکی اہلکاروں کو ایک بار پھر سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق امریکی فوجیوں کے انخلا کے باوجود عراق میں واشنگٹن کا سیاسی، سفارتی اور دیگر شعبوں میں اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔














