نیویارک: امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ مذاکرات سے باخبر تین ذرائع کے مطابق دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف پر قائم ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔
بی بی سی اردو کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر، 26 اکتوبر کو نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے اپنا مجوزہ منصوبہ واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ منگل کو اس تجویز پر اپنا باضابطہ جواب دے گی۔
دوسری جانب، ایگزیوس نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطری حکام دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور دونوں فریقوں کے سخت مؤقف کے باعث ثالثوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق قطر اب بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں کسی فوری پیش رفت یا معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے جواب اور دونوں جانب سے سامنے آنے والے ردعمل سے مذاکرات کی سمت واضح ہوگی۔














