• Home
  • Blog
  • یورپ، آئندہ برسوں کے دوران روزگار کے اضافے کی پیشگوئی  
A woman typing on a laptop while traveling on a train, capturing the essence of mobile work lifestyle.

یورپ، آئندہ برسوں کے دوران روزگار کے اضافے کی پیشگوئی  

برسلز : یورپ میں آئندہ برسوں کے دوران روزگار کے مواقع میں مجموعی اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے، تاہم مختلف شعبوں اور ممالک میں ملازمتوں کی شرح نمو میں نمایاں فرق متوقع ہے۔

یورپی ادارے سی ای ڈی ای ایف او پی کی 2026 کی 2023 سے 2035 تک کی پیش گوئی کے مطابق یورپی یونین کے 27رکن ممالک میں مجموعی روزگار 2035 تک 4 فیصد سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے۔

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے میں روزگار کی سالانہ شرح نمو تقریباً 2.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، تاہم رکن ممالک میں یہ شرح مختلف ہوگی۔

رومانیہ میں آئی سی ٹی ملازمتوں کی سالانہ شرح نمو 7.8 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ اٹلی اور جرمنی میں یہ تقریباً 1.3 فیصد رہ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بجلی پیدا کرنے کا شعبہ بھی روزگار کے لحاظ سے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل ہوگا، جہاں یورپی یونین میں ملازمتوں کی سالانہ شرح نمو تقریباً 2 فیصد متوقع ہے۔

مالٹا، نیدرلینڈز، رومانیہ اور لکسمبرگ سمیت بعض ممالک میں یہ شرح 4 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

تحقیق و ترقی، کمپیوٹر سروسز، فن تعمیر اور انجینئرنگ کی سرگرمیوں کو بھی تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شمار کیا گیا ہے، جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے ساتھ ساتھ ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی کی بڑھتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ان شعبوں میں روزگار کی سالانہ شرح نمو رومانیہ میں 7 فیصد سے زیادہ جبکہ ایسٹونیا اور ڈنمارک میں 3فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب کوئلے کے شعبے میں روزگار میں سب سے زیادہ کمی متوقع ہے، جہاں ملازمتوں کی سالانہ شرح میں تقریباً 10.7 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔

تیار شدہ ایندھن کے شعبے میں بھی روزگار کی سالانہ شرح تقریباً 4.4 فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں یورپ کی بدلتی ہوئی آبادی اور افرادی قوت کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ 65 سال یا اس سے زائد عمر کی افرادی قوت میں سالانہ 7 فیصد سے زیادہ اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے، تاہم رکن ممالک میں یہ شرح مختلف ہوگی۔

دوسری جانب 30 سے 54 سال کی عمر کے افراد پر مشتمل افرادی قوت میں سالانہ تقریباً 0.2 فیصد کمی متوقع ہے۔

خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کی شرح مردوں کے مقابلے میں قدرے تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں یورپ میں مردوں اور خواتین کے درمیان روزگار کا فرق مزید کم ہوسکتا ہے۔

آبادی میں بڑھتی عمر کے باعث صحت اور ذاتی نگہداشت سے متعلق شعبوں میں بھی روزگار کے مواقع بڑھنے کا امکان ہے، صحت کے ماہرین، معاون طبی عملے اور ذاتی نگہداشت سے وابستہ کارکنوں کی ملازمتوں میں سالانہ تقریباً 1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپ کو اعلیٰ مہارت رکھنے والے شعبوں، خصوصاً منیجرز، ماہر پیشہ ور افراد اور ایسوسی ایٹ پروفیشنلز کی بڑھتی طلب کے باعث افرادی قوت کی کمی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

مضبوط طلب، ریٹائر ہونے والے کارکنوں کی جگہ نئے افراد کی ضرورت اور مطلوبہ قابلیت و دستیاب مہارتوں میں فرق کو اس کمی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں۔

ایران تنازع کے دوران یواے ای پر سائبر حملوں میں تیزی، ایک دن میں 6 لاکھ سے زائد حملے

دبئی: ایران تنازع کے دوران متحدہ عرب امارات پر سائبر حملوں میں تیزی آگئی۔ اماراتی حکام کے مطابق…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

پشاور: عمرہ زائرین کیلئے سول سرجن آفس میں ویکسی نیشن سینٹر فعال

پشاور میں عمرہ زائرین کے لیے سول سرجن آفس میں ویکسی نیشن سینٹر فعال کردیا گیا۔ فوکل پرسن غلام…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا کے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

پشاور: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

امریکی محکمہ خارجہ نے آن لائن ویزا فراڈ کی شکایات کیلئے نیا پورٹل لانچ کردیا

امریکی محکمہ خارجہ نے آن لائن ویزا فراڈ کی اطلاع دینے کیلئے پورٹل لانچ کردیا۔ ترجمان امریکی قونصلیٹ…

ByByMomina Fatima Sep 24, 2026

ایک جواب دیں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top