مراکش میں اعتدال پسند جماعت پام کے پارلیمانی انتخابات میں اکثریتی نشستیں حاصل کرنے کے بعد فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم نامزد کردیا گیا ہے۔
اس نامزدگی کے بعد فاطمہ الزہرا المنصوری عرب دنیا میں حکومت کی سربراہی کرنے والی دوسری خاتون بن گئی ہیں۔ ان سے قبل تیونس کی نجلا بودن عرب دنیا میں وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
شاہ محمد ششم نے فاطمہ الزہرا المنصوری کو وزیر اعظم نامزد کیا۔ اس منصب کے لیے ان کا انتخاب جماعت کے سرکردہ رہنما اور مراکش کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ فوزی لقجع پر ترجیح دیتے ہوئے کیا گیا۔
50 سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری کئی برس تک مراکش شہر کی میئر رہ چکی ہیں، جبکہ اس سے قبل مخلوط حکومت میں وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
مراکش ایک آئینی بادشاہت ہے، تاہم ملک کے اہم اختیارات اب بھی بادشاہ کے پاس ہیں۔
وزیر اعظم کے طور پر نامزدگی سے قبل ایک پریس کانفرنس میں فاطمہ الزہرا المنصوری سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی وزارت عظمیٰ کے باعث ان مذہبی تقریبات کے انتظامات میں تبدیلی کرنا پڑے گی جن میں بادشاہ شرکت کرتے ہیں، جن میں جمعہ اور عید کی نمازیں بھی شامل ہیں اور جہاں مرد و خواتین کے لیے الگ الگ حصے مختص ہوتے ہیں۔
فاطمہ الزہرا المنصوری نے سوال کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے شاہ محمد ششم کو ملک میں خواتین کا سب سے بڑا حامی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’عالی جاہ دانائی کے حامل ہیں، اگر مجھے حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہوگا۔‘‘














