موغادیشو: صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پُنٹ لینڈ کے نائب وزیر اطلاعات بلی قابوسادے نے دعویٰ کیا ہے کہ مقامی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یرغمال بنائے گئے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیے جانے سے قبل قزاقوں نے عملے کے 5 ارکان کو قتل کردیا تھا۔
نائب وزیر اطلاعات نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ علاقائی سیکیورٹی اہلکاروں کے آئل ٹینکر پر پہنچنے سے قبل ہی قزاقوں نے عملے کے 5 ارکان کو ہلاک کردیا تھا۔
بلی قابوسادے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 3 پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل ہے، جبکہ عملے کے مزید 4 ارکان زخمی ہوئے ہیں، جن میں 3 پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ’ایم ٹی آنر 25‘ تقریباً 18 ہزار 500 بیرل تیل لے کر صومالی دارالحکومت موغادیشو جا رہا تھا، جب اپریل 2026 میں صومالیہ کے ساحل کے قریب سفر کے دوران مسلح قزاقوں نے اس پر قبضہ کرلیا تھا۔
حکام کے مطابق بازیابی کی کارروائی کے دوران 16 مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی تلاش جاری ہے۔
پُنٹ لینڈ کے نائب وزیر اطلاعات نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ پُنٹ لینڈ کی فورسز نے بعض قزاقوں کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ تاہم حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ عملے کے 5 ارکان کس طرح ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے جانی نقصان سے متعلق اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ وزارت خارجہ کے مطابق جبوتی میں پاکستانی مشن کو بحری جہاز کی بازیابی سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ صورتحال کی تصدیق اور حقائق کے تعین کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق جہاز پر 10 پاکستانی شہری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔ وزارت نے کہا ہے کہ پاکستانی مشن حقائق کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور سرکاری تصدیق دستیاب ہونے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔














