بغداد: عراق اور ترکی کے درمیان تیل و گیس کے شعبے میں طویل المدتی تعاون کے معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
عراقی وزیرِ تیل باسم محمد خضیر اور ترکی کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بایراکتار نے انقرہ میں ملاقات کی، جس کے دوران توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عراقی وزارتِ تیل کے مطابق ملاقات میں تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پیٹروکیمیکل صنعت کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی تجارت کو وسعت دینے سمیت مختلف امور زیرِ بحث آئے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عراق کی تیل برآمدات میں 80 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث بغداد متبادل برآمدی راستے اختیار کرنے اور ترکی کے ساتھ طویل المدتی توانائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دونوں ممالک نے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے متبادل راستوں پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔ رواں برس اگست میں ترکی کی سرکاری کمپنی ’’بوتاش‘‘ اور عراق کی سرکاری تیل کمپنیوں ’’سومو‘‘ اور ’’این او سی‘‘ کے درمیان کرکوک۔جیہان آئل پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بڑھانے کے لیے ایک سالہ معاہدہ بھی طے پایا تھا۔














